Book - حدیث 893

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى

ترجمہ Book - حدیث 893

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا(جلسہ) سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہیں کرتے تھے۔ جب تک پوری طرح کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے سر اٹھاتے ، اس وقت تک ( دوسرا) سجدہ نہیں کرتے تھے، جب تک اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے اور آپ اپنا بایاں پاؤن بچھا لیتے تھے۔ 1۔رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا,قومہ , کہلاتا ہے۔اس مقام پر پڑھی جانے والی بعض دعایئں۔ باب 18 میں بیان ہوچکی ہیں۔دونوںسجدوں کےدرمیان بیٹھنا,جلسہ,کہلاتاہے۔اس کے ازکار باب 23 میں بیان ہوں گے۔2۔قومہ اور جلسہ نماز کا اسی طرح ضروری حصہ ہیں۔جس طرح رکوع اور سجدہ نماز کے لئے ضروری اجزاء ہیں۔رسول اللہ ﷺنے نماز میں غلطی کرنے والے صحابی کو اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔,۔۔۔پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کرلے,پھر سراٹھا حتیٰ کہ ٹھیک کھڑا ہوجائے, پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔پھر سراٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرلے۔,۔۔(صحیح البخاری با ب الاذان باب امرالنبی ﷺ الذی لایتم رکوعہ بالا عادۃ حدیث 793)3۔سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پائوں بچھا کر اس پر بیٹھا جائے۔اور دایاں پائوں کھڑا رکھا جائے۔آخری تشہد میں بیٹھنے کاطریقہ یہ ہے بایاں پائوں دایئں پائوں کے نیچے سے نکال دیاجائے۔اورزمین پر بیٹھا جائے۔دیکھئے۔(صحیح البخاری الاذان باب سنۃ الجلوس فی التشھد حدیث 828)