Book - حدیث 891

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ

ترجمہ Book - حدیث 891

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: سجدوں میں اعتدال کا بیان سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال و اختیار کرے اور اپنے بازو اس طرح نہ پھیلائے جس طرح کتا پھیلاتا ہے۔ ‘‘ 1۔سجدے میں اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ نہ اتنا اونچا رہے کہ سجدے کے بعض اعضاء زمین پر نہ لگیں۔نہ اتنا اونچا ہوجائے کہ پورے بازو زمین پر لگ جایئں۔یا پیٹ رانوں سے مل جائے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نہ بہت لمباسجدہ کرے نہ بہت مختصر لیکن زیادہ طویل سجدہ اس وقت منع ہوگا۔جب ا س کی اقتداء میں کوئی اور نماز پڑھ رہا ہو۔خواہ فرض نماز ہو یا نفل۔2۔کتا جب زمین پر اطمینان سے بیٹھتا ہے۔تو پورے ہاتھ زمین پر پھیلا لیتا ہے۔سجدے میں اس طرح بازو پھیلانا درست نہیں۔بلکہ ہتھیلیاں زمین پر لگی ہونی چاہیں۔اور کہنیاں زمین سے بلند رہیں جیسے کہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔