Book - حدیث 884

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ السُّجُودِ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ فَكَانَ أَبِي يَقُولُ الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَكَانَ يَعُدُّ الْجَبْهَةَ وَالْأَنْفَ وَاحِدًا

ترجمہ Book - حدیث 884

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: سجدوں کا بیان سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ساتھ (اعضاء) پر سجدہ کروں اور بالوں یا کپڑوں کو نہ سمیٹوں۔ ‘‘ ابن طاؤس ؓ نے کہا: میرے والد( ابن عباس ؓ کے شاگرد سیدنا طاؤس ؓ) فرمایا کرتے تھے: یعنی دو ہاتھ، دو گھٹنے، دو قدم ( اور پیشانی اور ناک) وہ پیشانی اور ناک کو ایک ہی عضو شمار کرتے تھے۔ 1۔سات اعضاء پرسجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سجدے میں یہ ساتوں اعضاء زمین پر لگنے چاہییں۔2۔ناک اور ماتھے کو ایک اعضاء اس لئے شمار کیاگیا کیونکہ اگلی حدیث میں اس کےلئے ,چہرے, کا لفظ آیا ہے۔3۔سجدہ کرتے وقت اگر بال زمین پر لگتے ہوں تو پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ بالوں کپڑوں وغیرہ کو زمین پر موجود معمولی سی گردوغبار سے بچانے کی کوشش میں سجدے اور اس کے اذکار کی طرف توجہ نہیں رہتی۔جو نماز میں نقص کاباعث ہے۔4۔بالوں کوسمیٹنے کا مطلب اس کا جوڑا بنانابھی ہے۔جو نماز میں منع ہے عورتوں کو بھی چاہیے کہ نماز میں چوٹی کو جوڑے کی طرح نہ لپیٹیں۔بلکہ لٹکی رہنے دیں۔5۔وضو کرنے کےلئے قمیض وغیرہ کے جو بازو چڑھائے گئے ہوں نماز شروع کرنے سے پہلے انھیں کھول لیا جائے۔