Book - حدیث 882

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ السُّجُودِ ضعیف حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَامَ مِنْ السُّجُودِ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ

ترجمہ Book - حدیث 882

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: سجدوں کا بیان سیدنا وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تھے تو ہاتھوں سے پہلے گھٹنے( زمین پر) رکھتے تھے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے تھے۔ مذکورہ روایت سندا ضعیف ہے۔اس لئے سجدہ میں جاتے وقت پہلے گھٹنے نہیں بلکہ ہاتھ زمین پر رکھنے چاہییں۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ تعالیٰ عنہ سےمروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔,جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے کہ اونٹ بیٹھتا ہے۔چاہیے کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھے۔,(سنن ابی دائود الصلاۃ باب کیف یضع رکبتیہ قبل یدیہ حدیث 840۔)نیز صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھا کرتے تھے۔(صحیح البخاری الاذان باب 128)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی سند جید ہے۔جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور زرقانی نے لکھا ہے۔اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کو حدیث وائل کی نسبت قوی تر لکھا ہے۔دیکھئے۔(تمام المنۃ 193۔194)حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی ترجیح بھی یہی ہے۔کے سجدے میں جاتے ہوئے اونٹ کی مشابہت سے بچتے ہوئے ہاتھ زمین پر رکھنے چاہییں۔عام محدثین اور حنابلہ اسی کے قائل ہیں۔مگر احناف اور شوافع حضرت وائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی (ضعیف) روایت پر عامل ہیں۔اور پہلے گھٹنے رکھتے ہیں۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔(تحفۃ الاحوذی تمام المنۃ)