Book - حدیث 88

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْقَدَرِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّيشَةِ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ بِفَلَاةٍ»

ترجمہ Book - حدیث 88

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: تقدیر سے متعلق احکام ومسائل حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘ دل کی مثال ایک پر کی سی ہے، جسے ہوائیں چٹیل میدان میں الٹا پلٹاتی رہتی ہیں۔ ’’ (1) پرندے کا اکھڑا ہوا ایک پر بہت ہلکی چیز ہوتا ہے جسے معمولی ہوا بھی سیدھے سے الٹا اور الٹے سے سیدھا کر سکتی ہے۔ اگر وہ کسی کھلے میدان میں ہو تو ظاہر ہے ہوا اس پر زیادہ اثرانداز ہو گی کیونکہ وہاں ہوا کے اثر کو کم کرنے والی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ اور وہ بڑی تیزی سے الٹ پلٹ ہوتا ادھر سے ادھر اور یہاں سے وہاں اڑتا پھرے گا۔ انسان کے دل کی بھی یہی حالت ہے۔ اس پر مختلف جذبات و احساسات تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کبھی نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کبھی گناہ کی طرف، کبھی اس میں محبت کے لطیف جذبات میں موج زن ہوتے ہیں کبھی نفرت کی آندھی چڑھ آتی ہے۔ دل کی اس کیفیت سےفائدہ اٹھا کر شیطان اسے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے، لہذا کسی کو نیکی کی راہ پر گامزن دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ضرور جنت میں جائے گا اور نہ کسی کو گناہوں مین غرق دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لازما جہنمی ہے، اس لیے نیکی کی توفیق ملے تو اللہ سے استقامت کی دعا کرنی چاہیے اور گناہ ہو جائے تو اشکِ ندامت کا نذرانہ لے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ گناہوں کی آندھی اسے رحمت سے بہت دور لے جائے۔(2) چونکہ دل کی کیفیات کسی بھی لمحے تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے انسان اپنے انجام کے بارے مین مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ایمان پر وفات کی دعا کی جائے اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ سے ہدایت و رہنمائی کی درخواست کی جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: (يا مصرف القلوب ثبت قلبي علي طاعتك) (مسند احمد:2/418) اے دلوں کو پھیرنے والے! میرا دل اپنی اطاعت و فرمانبرداری پر ثابت رکھ۔