Book - حدیث 856

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الْجَهْرِ بِآمِينَ صحیح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا حَسَدَتْكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ، مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ»

ترجمہ Book - حدیث 856

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: بلند آواز سے آمین کہنا سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے، جتنا سلام اور آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔ ‘‘ 1۔آپس میں سلام اور نماز میں آمین کہنا مسلمان معاشرے کی ایک ایسی خوبی ہے۔جسے غیر مسلم بھی محسوس کرتے ہیں۔2۔حسد کی وجہ سے وہ خود تو اس نیکی کو اختیار نہیں کرتے۔البتہ یہ خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ مسلمان ایسی خوبیوں سے محروم ہوجایئں۔3۔آپس میں ملاقات کے وقت مسلمانوں کا طریقہ ,السلام علیکم, اور ,وعلیکم السلام, کہنا ہے۔جو مختصر الفاظ کا ایک جملہ ہونے کے باوجود ایک بہترین دعا ہے۔یہودونصاریٰ اولا تو ہاتھ کے اشارے پراکتفا کرتے ہیں۔یا ,ہیلو ,ہائے, کے الفاظ بولتے ہیں۔ جن میں دعا کا عنصر سرے سے شامل نہیں یا ,گڈمارننگ, گڈ ایوننگ,جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔جس میں خیر کی خواہش محدود کردی گئی ہے۔,صُبح بخیر, شب بخیر,وغیرہ کے الفاظ بھی انہی کی نقل ہیں۔جب کہ مسلمانوں کاطریقہ دعا پر مبنی ہے۔اور دعا بھی محدودوقت کے لئے نہیں۔ان لوگوں کا رویہ قابل افسوس ہے۔جو اس بہترین دعا کوچھوڑ کر غیر مسلموں کے فضول اور بے فائدہ جملے اختیار کرتے ہیں۔4۔,آمین,کا مطلب ہے۔,قبول فرما, یہ گویا مفصل دعا کے بعد مختصر انھی دعائوں کی تکرار ہے ۔یہود ونصاریٰ بھی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ہوسکتا ہے۔یہ انھوں نے مسلمانوں ہی سے سیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے انبیائے کرامعلیہ السلام کی جو تعلیمات تحریف سے بچ کر ان تک پہنچ گئی ہیں۔ان میں یہ بھی شامل ہو۔اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ یہ خوبیوں بھر الفظ مسلمانوں کے استعمال میں آئے۔ان کی حالت تو وہ ہے۔جو قرآن مجید نے بیان کی ہے کہ مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ (البقرۃ ۔105) ,اہل کتاب اور (دیگر) مشرکین اور کافر یہ پسند نہیں کرتے۔کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھی بھلائی نازل ہو۔,مسلمانوں کو چاہیے کہ کافروں کے بہکاوے میں نہ آیئں اور سلام اور آمین جیسے پاکیزہ آداب سے کنارہ کش نہ ہوں۔