Book - حدیث 851

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ الْجَهْرِ بِآمِينَ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

ترجمہ Book - حدیث 851

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: بلند آواز سے آمین کہنا سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسولا للہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب قراءت کرنے والا (امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیوں فرشتے بھی آمین کہتے ہیں تو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔‘‘ 1۔اسے سے معلوم ہوا کہ مقتدی کو اس وقت آمین کہنی چاہیے۔ جب امام آمین کہے اگرچہ مقتدی کی قراءت امام سے آگے پیچھے ہی ہو۔2۔اس سے امام کا بلند آواز سے آمین کہنا ظاہر ہوتا ہے۔کیونکہ مقتدی اس کی آواز سن کر آمین کہیں گے۔3۔نمازی کی آمین کا فرشتوں کی آمین سے مل جانے کا کیا مطلب ہے۔؟ اس کی تشریح مختلف انداز سے کی گئی ہے۔(الف)وقت میں موافقت یعنی جس وقت فرشتے آمین کہیں اس وقت نمازی آمین کہیں۔(ب)خلوص میں موافقت ۔فرشتوں کا ہر عمل اخلاص کے ساتھ محض اللہ کی رضا کےلئے ہوتا ہے۔اگر نمازی بھی اسی طرح اخلاص کےساتھ آمین کہے تو اس کے گناہ معاف ہوجایئں گے۔(ج)خشوع میں موافقت آمین دعا ہے اور دعا میں خشوع قبولیت کا باعث ہے۔فرشتوں کے اعمال میں خشوع پایا جاتا ہے۔اسی طرح مومن کی دعا اور خصوصا آمین میں خشوع اور ادب واحترام ہونا چاہیے۔4۔امام بخاریرحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث اس عنوان کے تحت زکر کی ہے باب جھر الماموم بالتامین۔,مقتدی کا بلند آواز سے آمین کہنا,(صحیح البخاری الاذان باب جھر الماموم بالتامین حدیث 782)