Book - حدیث 845

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابٌ فِي سَكْتَتَيْ الْإِمَامِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ: «حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، سَكْتَةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَسَكْتَةً عِنْدَ الرُّكُوعِ» فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ

ترجمہ Book - حدیث 845

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امام کے دو سکتوں کابیان سیدنا حسن ؓ سے روایت ہے سیدنا سمرہ ؓ نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ کے دو سکتے یاد ہیں۔ ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع سے پہلے ۔ سیدنا عمران بن حصین ؓ نے ان سے اتفاق نہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا ابی بن کعب ؓ کی طرف مدینہ منورہ خط لکھا۔ تو سیدنا ابی ؓ نے سیدنا سمرہ ؓ کی تائید فرمائی۔ اس تفصیل سے تین سکتے۔(تھوڑا خاموش رہنا)معلوم ہوتے ہیں۔ایک سکتہ تکبیر تحریمہ کے بعد (جس میں حمد وثنا پڑھی جاتی ہے۔)دوسراسکتہ سورۃ فاتحہ کے خاتمے پر(تاکہ امام کا سانس درست ہوجائے نیز آمین اور قراءت قرآن کے درمیان امتیاز ہوجائے۔)تیسرا سکتہ قراءت سے فراغت کےبعد رکوع میں جانے سے قبل (اس کا مقصد بھی سانس درست کرنا ہے۔)بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ امام کے ساتھ ساتھ اپنے جی میں نہ پڑھے۔بلکہ ان سکتات میں سے کسی ایک سکتے میں پڑھ لے۔لیکن یہ موقف اس لئے صحیح نہیں کہ نبی کریمﷺ نے یہ سکتے اس مقصد کےلئے نہیں کیے تھے۔اس لئے یہ نہایت مختصر ہوتے تھے۔علاوہ ازیں صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین نے بھی ان سکتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا التزام نہیں کیا۔اس لئے صرف سکتات میں ہی سورۃ فاتحہ پڑھنے کی اجازت دینے والے موقف کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔