Book - حدیث 799

كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ بَابُ لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، كَانَ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ

ترجمہ Book - حدیث 799

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل باب: مساجد میں زیادہ وقت گزارنے اور نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی (مسلمان ) جب مسجد میں داخل ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے، وہ (ثواب کے لحاظ سے) نماز ہی میں( شمار) ہوتا ہے۔ اور ( نماز کے بعد) جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی، تب تک فرشتے اس کے حق میں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں: اے اللہ! اس کی مغفرت فرمای، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ ! اس کی توقبول فرما۔ ( اس کو یہ دعائیں ملتی رہتی ہیں) جب تک وہاں اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے اور جب تک وہ اس جگہ کسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘ 1۔مسجد میں جماعت کھڑی ہونے سے کافی پہلے جانا چاہیے تاکہ سنت اور نوافل وغیرہ ادا کیے جاسکیں یا ذکروتلاوت سے ثواب حاصل کیا جائے۔ 2۔فرض نماز کے انتظار میں بیٹھنے سے نماز جتنا ثواب ملتا ہے۔اس اثناء میں کیا جانے والا ذکر اور پڑھے جانے والے نوافل مزید ثواب کا باعث ہوتے ہیں۔ 3۔فرض نماز ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر بیٹھ کر مسنون ارادووظائف میں مشغول رہنا بہت زیادہ اجر وثواب کا کام ہے۔ 4۔باوضو رہنا ثواب اور فضیلت کا باعث ہے۔ 5۔بو سے جس طرح انسان کو تکلیف ہوتی ہے اسی طرح فرشتے بھی اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں اس لیے بو پیدا ہونے کے بعد فرشتے نمازی کے حق میں دعا کرنا بند کردیتے ہیں۔ 6۔ جب تک تکلیف نہ دے اس کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ زبان سے نا مناسب بات کہہ کر کسی نمازی کو تکلیف نہ دے۔بے وضو ہوجانے کی بو سے بھی نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہےممکن ہے یہی مراد ہو۔واللہ اعلم