Book - حدیث 794

كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: عَلَى أَعْوَادِهِ «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجَمَاعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ»

ترجمہ Book - حدیث 794

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل باب: نماز با جماعت سے پیچھے رہ جانا سخت گناہ ہے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ’’لوگوں کو جماعت ترک کرنے سے باز آجانا چاہیے ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ضرور مہر لگا دے گا، پھر وہ ضرور غافلوں میں شامل ہو جائیں گے۔‘‘ 1۔بعض افراد کی غلطی کو سب کے سامنے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ ان کی غلطی کو اختیار نہ کریں اور سب لوگ متنبہ ہوجائیں۔ 2۔کسی کا نام لیے بغیر غلطی پر تنبیہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور ان کی عزت بھی محفوط رہے۔ 3۔ بعض گناہوں کی وجہ سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ نیکیوں کی توفیق سلب ہوسکتی ہے۔ 4۔نماز باجماعت کا ترک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا دنیا ہی میں دل پر مہر لگ جانے کی صورت میں مل سکتی ہے۔ 5۔غفلت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنے فائدے کا احساس اور شوق باقی نہ رہےاور اپنے نقصان کا احساس اور اس سے خوف باقی نہ رہے۔یہ ایک بیت بڑی روحانی بیماری ہے جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ انسان نیکی اور بدی کا شعور ہی کھو بیٹھےاور آخر کار جہنم میں جا پہنچے۔اعاذنا لله من ذلكّ