Book - حدیث 745

كِتَابُ الْمَسَاجِدِوَالْجَمَاعَاتِ بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ، إِلَّا الْمَقْبَرَةَ، وَالْحَمَّامَ»

ترجمہ Book - حدیث 745

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل باب: جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قبرستان اور غسل خانے کے سوا ساری زمین مسجد ہے۔‘‘ "1۔جہاں قبر سامنے ہو وہاں نماز پڑھنے سے منع ہونے میں یہ حکمت ہے کہ ظاہری طور پر قبر کو سجدہ کی صورت نہ بنے۔اگرچہ ارادہ قبر یا صاحب قبر کو سجدہ کرنے کا نہ ہو۔نماز جنازہ میں بھی رکوع اور سجدہ مقرر نہیں کیا گیا کیونکہ میت سامنے ہوتی ہےتاکہ ظاہری طور پر بھی سجدہ کی صورت نہ بن جائے اسی وجہ سےجو شخص کسی کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا وہ بعد میں اس کی قبر پر جنازہ پڑھ سکتا ہے۔دیکھیے:(سنن ابن ماجه حديث:١٥٢٧/١٥٣٣) 2۔بعض لوگ کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس مسجد بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مدفون ہستی کی برکات کی وجہ سے یہاں نماز پڑھنا افضل ہے حالانکہ یہ بھی شرعاً منع ہے اگرچہ نماز پڑھتے وقت قبر سامنے نہ بھی ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بزرگوں اور انبیاء کی قبروں پر عبادت گاہیں بنانا یہودونصاری کی عادت ہے۔رسول اللہ ﷺنے اس سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ارشاد نبوی ہے:اللہ کی لعنت ہو یہودونصاری پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ (صحيح البخاري الصلوة حديث;٤٣٥/٤٣٦)وصحيح مسلم المساجد باب النهي عن بناءالمساجد علي القبور۔۔۔۔۔حديث:٥٢٩) 3۔بعض لوگ مسجد میں قبر کے جواز کے لیے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حطیم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہےحالانکہ وہ کعبہ کا حصہ ہے۔اسی طرح مسجد نبوی میں نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں ہیں۔یہ دلیل اس لیے درست نہیں کہ حطیم میں اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہونا ثابت بھی ہو تو اس کا نشان مٹ چکا ہے لہذا وہ قبر کے حکم میں نہیں رہی۔اور نبی اکرم ﷺ اور شیخین رضی اللہ عنہ کی قبریں مسجد نبوی سے باہر بنائی گئی تھیں۔ان کو مسجد میں شامل کرنے کا حکم نہ اللہ نے دیا نہ اس کے رسول ﷺ نے نہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا۔بعد کے زمانوں کے غلط کام کسی شرعی مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ویسے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا حجرہ مبارکہ جس میں یہ قبریں موجود ہیں چاروں طرف سے بند ہے وہاں جانا ممکن نہیں اس طرح گویا انھیں مسجد سے الگ کردیا گیا ہے۔اس کے باوجود محتاط علمائے کرام یہی کہتے ہیں کہ اگر دور حاضر کے حکام اس حصے کو دیوار کے ذریعے مسجد سے الگ کردیتے جہاں آنے جانے کا راستہ بالکل الگ ہوتا تو یہ بہت بہتر ہوتا۔"