Book - حدیث 704

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُقَالُ صَلَاةُ الْعَتَمَةِ صحیح حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ وَإِنَّهُمْ لَيُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ

ترجمہ Book - حدیث 704

کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل باب: نماز عشاء کو ‘‘ عتمہ’’ کہنے کی ممانعت کا بیا ن سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فر رہے تھے: ’’اعرابی تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آجائیں، یہ عشاء ہے ، وہ لوگ اونٹنیوں( کا دودھ اندھیرے کے وقت دوہنے) کی وجہ سے اسے عتمہ( اندھیرے کی نماز) کہتے ہیں۔‘‘ 1۔قرآن مجید میں عشاء کی نماز کا ذکر اس کے نام کے ساتھ آیا ہے جہاں یہ حکم ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بچے اور غلام بھی اجازت لیکر گھر اور کمرے میں آئیں۔( سورہ النور:57) اعرابیوں نے مغرب کی نماز کو عشاء اور عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا شروع کردیا تھا۔اس سے خطرہ ہو ا کہ لوگ اس حکم کو عشاء کے بجائے،مگرب کی نماز کے متعلق نہ سمجھ لیں،اس لیے شرعی اصطلاح کو اس طرح تبدیل کردینا کہ غلط فہمی کا اندیشہ ہو درست نہیں۔ 2۔عتمہ اندھیرے کو کہتے ہیں چونکہ وہ لوگ شام کو کافی تاخیر سے یعنی اندھیرا ہونے پر اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے نماز عشاء کو عتمہ کہنا شروع کردیا۔بعض احادیث میں نماز عشاء کو عتمہ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے،اس لیے اس نہی کو تنزیہی قرار دینا چاہیے یعنی عشاء کو عتمہ کہنے سے بچنا بہتر ہے،واللہ اعلم،