Book - حدیث 686

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ صحیح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا

ترجمہ Book - حدیث 686

کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل باب: نماز عصرکی پا بندی ضروری ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مشرکین نے نبی ﷺ کو عصر کی نماز نہ پڑھنے دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ’’انہوں نے ہمیں درمیانی نماز سے روک دیا، اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔‘‘ 1۔اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:(حافظوا علي الصلوة والصلوة الوسطي ) (البقره:٢٣٨ّ٢) نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر) درمیانی نماز کی۔ 2۔نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہےاور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔ 3۔جہاد ایل عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔(جامع الترمذی الایمان باب ماجاء فی حرمۃ الصلوۃ حدیث: 2612) لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔