Book - حدیث 640

کِتَابُ التَّيَمَُ بَابٌ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى حَائِضًا صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ

ترجمہ Book - حدیث 640

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل رحیض کی حالت میں مقاربت کا کفارہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایامِ حیض میں عورت سے مباشرت کرنے والے کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔‘‘ 1۔ جو شخص ایام حیض میں مباشرت (صحبت)کرلے اسے چاہیے کہ کفارہ ادا کرےتاکہ اس کا یہ گناہ معاف ہوجائے۔ 2۔دینار سونے کا ایک سکہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب میں رائج تھا۔اس کاوزن ساڑھے چار ماشے(374ملی گرام ) ہوتا تھا اس لیے یہ کام سرزد ہوجائے تو اسے چاہیے کہ تقریباً ساڑھے چار گرام خالص سونے کی جتنی قیمت بنے اتنی رقم خیرات کرے۔یہ صدقہ کسی غریب مسکین اور مستحق فرد کود ینا چاہیے۔ 3۔شیخ احمد شاکر نے جامع ترمذی کے حاشیے میں صراحت کی ہے کہ دینار یا نصف دینار راوی کا شک نہیں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اختیار ہے کہ خواہ ایک دینار صدقہ کردے یا نصف دینار حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔اس سے انھوں استنباط کیا ہے کہ یہ صدقہ واجب نہیں کیونکہ اگر واجب ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ چاہے تو پورا واجب ادا کرے یا آدھا واجب ادا کرے۔ 4۔بعض سلف نے ایک دینار اور آدھے دینار اور آدھے دینار کے حکم میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ اگر حیض کے شروع کے ایام ہوں جب خون سرخ ہوتا ہے تو پورا دینار دے اگر آخری ایام ہوں جب خون زردی مائل ہوتا ہے تو آدھا دینار دے۔بعض علماء یہ کہتے ہیں اگر طاقت ہوتو پورا دینار ادا کرے تنگ دست ہو تو آدھا دینار صدقہ ادا کردے۔