Book - حدیث 58

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابٌ فِي الْإِيمَانِ صحیح حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»

ترجمہ Book - حدیث 58

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: ایمان سے متعلق احکام ومسائل حضرت سالم ؓ نے اپنے والد( حضرت عبداللہ بن عمر ؓ) سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے ایک نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے ﷺ نے فرمایا: ‘‘بے شک حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔’’ (1) حیا سے مراد وہ اخلاقی کیفیت ہے جس کی وجہ سے انسان معیوب امور سے پرہیز کرتا ہے اور حق دار کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتا۔ (2) حیا مومن کی خوبی ہے، اس لیے ہر وہ چیز یا عمل جو انسان کو بے حیائی پر آمادہ کرے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ (3) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کی بہت سی شاخیں ہیں جن میں کمی بیشی ممکن ہے، لہذا ایمان میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے۔ (4) حیا کے متعلق نصیحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے کہہ رہا تھا کہ اتنی زیادہ شرم اچھی نہیں ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح فرما دی۔ (5) جب کسی سے کوئی غلط بات سننے میں آئے جسے وہ صحیح سمجھ رہا ہو تو اس کی غلط فہمی دور کر کے صحیح بات واضح کر دینی چاہیے۔ یہ بھی نهي عن المنكر کی ایک صورت ہے۔ (6) بعض لوگ فطری طور پر شرمیلے ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت کر کے ان کا رخ نیکیوں کی طرف موڑ دیا جائے تو یہ زیادہ مفید ہوتا ہے۔