Book - حدیث 575

کِتَابُ التَّيَمَُ بَابٌ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ

ترجمہ Book - حدیث 575

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل باب: غسل جنابت کے بیان میں سیدنا جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں غسل جنابت کے بارے میں بحث ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تو اپنے سر پر تین لپ(پانی) ڈالتا ہوں۔‘‘ 1۔اگر سر میں صحیح طریقے سے پانی ڈالا جائے تو تین لپوں میں پورا سر اچھی طرح تر ہوسکتا ہے۔ویسے بھی ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرنا فضول خرچی ہے جس سے اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ 2۔بحث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع پر بات چیت شروع ہوگئی ہے،ہر کسی نے بتایا کہ وہ غسل کس طرح کرتاہے۔تعلیم وتربیت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی مسئلے میں شاگردوں کی رائے فرداً فرداً دریافت کی جائے۔اس کے بعد استاد صحیح بات بتائے تاکہ ہر طالب علم اپنی غلطی معلوم کرکے اسے اچھی طرح یادرکھ سکے۔ 4۔اس حدیث میں غسل جنابت کے مسائل میں سے صرف ایک مسئلہ بیان کیا گیا ہے’’ممکن ہے رسول اللہ نے پورا طریقہ بیان کیا ہو’’راوی نے صرف اہم ذکر کردیا ۔یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے باقی مسائل ذکر نہ کیے ہوں کیونکہ صحابہ نے وہ باتیں صحیح بتائی ہوں گی’’جو بات ان سے رہ گئی نبیﷺ نے اس کا ذکر فرمادیا۔واللہ اعلم۔