Book - حدیث 565

کِتَابُ التَّيَمَُ بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ فَتَخَلَّفَتْ لِالْتِمَاسِهِ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ قَالَ فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ

ترجمہ Book - حدیث 565

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل باب: تیمم کی مشروعیت کا بیان سیدنا عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ ؓا کا ہار گر پڑا۔ وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں( اس وجہ سے قافلہ بھی رک گیا۔) سیدنا ابو بکر ؓ سیدہ عائشہ ؓا کے پاس گئے اور لوگوں کے رکنے کے باعث بن جانے پر ان پر ناراضی کا اظہار فرمایا۔( چونکہ اس مقام پر وضو کے لئے پانی موجود نہیں تھا) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کی اجازت نازل فرماید۔ (صحابی فرماتے ہیں) اس دن ہم نے کندھوں تک مسح ۔(اس کے بعد ) سیدنا ابو بکر ؓ سیدہ عائشہ ؓا کے پاس گئے اور کہا: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اس قدر باعث برکت ہو۔ 1۔خاوند کو مناسب حد تک بیوی کی دلجوئی کرنی چاہیے اگرچہ اس میں کچھ مشقت بھی ہو۔ 2۔والدین اپنی اولاد کی غلطی پر زبانی تنبیہ اور جسمانی تادیب سے کام لے سکتے ہیں۔ 3۔اس سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا شرف ظاہر ہوتا ہےکہ ان کی ایک وقتی تکلیف کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو تیمم جیسی سہولت کی نعمت حاصل ہوگئی۔حضر ت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اسی موقع پر حضرت عائشہ کی اسی فضیلت کا اظہار فرمایا تھا۔(دیکھیے: حدیث :568) 5۔تیمم میں کندھوں تک ہاتھ پھیرنے کا حکم منسوخ ہے۔صرف چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کافی ہے جیسا کہ دوسری روایات میں صراحت ہے۔