Book - حدیث 546

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ صحیح حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ سَعْدٌ لِعُمَرَ أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ عُمَرُ كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَإِنْ جَاءَ مِنْ الْغَائِطِ قَالَ نَعَمْ

ترجمہ Book - حدیث 546

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: موزوں پر مسح کرنا سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا سعد بن مالک ؓ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا تو فرمایا: کیا آپ لوگ اس طرح کرتے( مسح کر لیتے ہیں، پاؤں نہیں دھوتے؟) اس کے بعد سیدنا عمر ؓ کے پاس دونوں کی باہم ملاقات ہوگئی تو سیدنا سعد ؓ نے سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: میرے بھتیجے( ابن عمر ؓ) کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتا دیجئے۔ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور موزوں پر مسح کر لیا کرتے تھے اس میںکوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے فرمایا: اگرچہ کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آیا ہو؟ عمر ؓ نے فرمایا: ہاں( تب بھی مسح کر لیتے تھے۔) 1: ایک عالم شخص بھی بعض اوقات کسی مسئلہ سے ناواقف ہوسکتا ہے اس سے اسکی شان میں کوئی فرق نہیں آتا،اس لیے علماء کرام کہا کرتے ہیں: ( من حفظ حجة علي من لم يحفظ) جسے ایک مسئلہ یا حدیث یاد ہےوہ حجت ہے اس شخص پرجسے یاد نہیں۔ 2۔اختلاف کے موقع پر اپنے سے بڑے عالم سے مسئلہ معلوم کرلینا چاہیے۔ 3۔عالم کو چاہیے کہ مسئلہ دلیل کے ساتھ بیان کردےتاکہ سائل کو اطمینان ہوجائے جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دلیل دی کہ یہ عمل ہم نے نبی ﷺ کی موجودگی میں آپ کے سامنے کیاہےاور آپ نے منع نہیں فرمایا لہذا یہ جائز اور درست ہے۔ 4۔رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں کوئی کام کیا جائے اور آپ منع نہ کریں تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے۔ایسی حدیث کو تقریری حدیث کہتے ہیں۔نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور کی خاموشی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ممکن ہے کہ وہ شخص اس کےجواز یا کراہت کا قائل ہو یا خاموشی کی وجہ کوئی اور ہو