Book - حدیث 533

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْأَرْضِ يُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضًا صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ طَرِيقًا قَذِرَةً قَالَ فَبَعْدَهَا طَرِيقٌ أَنْظَفُ مِنْهَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَهَذِهِ بِهَذِهِ

ترجمہ Book - حدیث 533

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: زمین کا ایک حصہ دوسرے حصے کو پاک کر دیتا ہے قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک خاتون( ؓا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے مسئلہ پوچھا، میں نے کہا: میرے( گھر) اور مسجد کے درمیان راستہ گندا( اور کوڑے کرکٹ والا ) ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اس کے بعد صاف راستہ بھی ہے؟‘‘میں نے کہا: جی ہاں، فرمایا:’’اس سے اس کی تلافی ہو جائے گی۔‘‘ 1۔ناپاک زمین پر چلنے سے اگر پاؤں کو کوئی محسوس نجاست نہ لگی ہو تواس کے بعد صاف زمین پر چلنے سےپاؤں پاک ہوجاتےہیں دھونا ضروری نہیں۔اس کی تائید زمین پر گھسٹنے والے کپڑے کے مسئلے سے بھی ہوتی ہے(دیکھیے اسی بابکی پہلی حدیث) 2اسلام میں خواہ مخواہ کی سخت پابندیاں نہیں۔یہ دین اسلام کی خوبی ہےکہ وہ آسانیوں کادین ہے 3۔صفائی اور طہارت کا مناسب اہتمام کرنا چاہیے لیکن اس حد تک غلو نہیں کرنا چاہیے کہ انسان وسوسوں کا شکار ہوکر رہ جائے۔