Book - حدیث 522

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يُطْعَمْ حسن حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ بَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي ثَوْبَكَ وَالْبَسْ ثَوْبًا غَيْرَهُ فَقَالَ إِنَّمَا يُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ وَيُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى

ترجمہ Book - حدیث 522

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم سیدنا لبابہ بنت حارث ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا حسین بن علی ؓ نے نبی ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اپنا کپڑا مجھے دیجئے اور خود کوئی اور کپڑا پہن لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لڑکے کے پیشاب سے تو چھینٹے مارے جاتے ہیں اور لڑکی کے پیشاب کی وجہ سے( کپڑا) دھویا جاتا ہے۔‘‘ 1۔اگر شیرخوار بچہ (جس کا دودھ نہ چھڑایاگیاہو)کپڑے پر پیشاب کردے تو کپڑا دھوناضروری نہیںاور اگر بچی پیشاب کردےتو کپرا دھونا چاہیے۔ 2۔بچے کے پیشاب جی وجہ سے دھونے کے بجائےچھینٹے مارنے کا ھکم اس لیے دیاگیا کہ بچی کا پیشاب کپڑے پر ایک جگہ لگتا ہے اسے دھونا آسان ہےجبکہ بچے کا پیشاب بکھر کر کپڑے کے زیادہ حصے پر یا زیادہ کپڑوں پر پڑتاہے اس لیے اسے دھونے میں مشقت ہےاور چونکہ شیر خوار بچے کو یہ شعور نہیں ہوتالہ گود میں پیشاب کرنا ہے یا نہیں اس لیے یہ صورت حال اکثر پیش آجاتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالی نے بندوں پر یہ آسانی فرمادی کہ بچے کے پیشاب کی وجہ سے کپڑے کو دھونے کا حکم نہیں دیا جس طرح مشقت کی وجہ سےبلی کے جھوٹے کو پاک قراردیا گیا ہےکیونکہ اس سے بچاؤ بہت دشوار ہے،البتہ جب بچہ کھانا کھانے کی عمر کو پہنچتا ہےتو اسے اس قدر شعور آچکا ہوتا ہے کہ وہ پیشاب کی حاجت ہونے پر بتاسکتا ہے لہذا اس وقت اس کے پیشاب سے اجتناب آسانی سے ممکن ہوتا ہے۔