Book - حدیث 511

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَالصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ صحیح حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا فَأَنَا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 511

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرنا اور ایک وضو سے سب نمازیں پڑھ لینا جناب فضل بن مبشر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓماکو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے دیکھا۔ ( جناب فضل ؓ نے فرمایا:) میں نے کہا: آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ 1۔کسی عالم کو کوئی ایسا کام کرتے دیکھیں جو پہلے ہمیں معلوم نہ ہوتو عالم سے اس کے بارے میں پوچھ لینایا دلیل دریافت کرنا احترام کے منافی نہیں۔ 2۔عوام میں سے کوئی شخص اگر عالم کی کسی بات پر تنقید کرے تو عالم کو چاہیےکہ خفگی کا اظہار نہ کرے بلکہ مسئلے کی وضاحت کردے۔ 3۔یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معناً درست ہے جس طرح کہ سابقہ روایت میں گزرا ہے۔