Book - حدیث 51

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ ضعیف حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا»

ترجمہ Book - حدیث 51

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: بدعات اور غیر ضروری بحث و تکرار سے پرہیز کرنے کا بیان حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘جو شخص باطل پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے، اس کے لئے جنت کے اطراف میں ایک محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے، اس کے لئے جنت کے وسط میں( محل) تیار کیا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے کر لے ،اس کے لئے (جنت کے) بلند ترین حصے میں محل تیار کیا جائے گا۔’’ (1) کسی بھی دینی یا دنیوی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: () (النساء:128) صلح بہتر ہے۔ (2) جب کوئی شخص اپنی غلطی محسوس کر لے تو اسے چاہیے کہ اس آیت کی تلاوت کرے تاکہ اختلاف ختم ہو جائے۔ یہ عمل اس قدر عظیم ہے کہ اس کی جزا کے طور پر جنت میں ایک محل ملے گا۔ (3) دنیوی معاملات میں یہ ممکن ہے کہ انسان اپنا جائز حق چھوڑ کر جھگڑا ختم کر دے۔ باہمی اتفاق و اتحاد کے لیے دی گئی یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت عظیم عمل ہے جس کا انعام یہ ہے کہ ایسے شخص کو جنت کے درمیان میں ایک عمدہ محل ملے گا۔ (4) مسلمان کے اخلاق اعلیٰ درجے کے ہونے چاہئیں تاکہ روزمرہ کے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں، خوش خلقی، برداشت اور نرم خوئی کی صفات سے مزین ہو کر لڑائی جھگڑے کے امکانات ہی ختم کر دیے جائیں۔ معاشرے میں اس قسم کے افراد جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی امن و امان زیادہ ہو گا، اس لیے ایسا شخص مذکورہ بالا دونوں قسم کے افراد سے بلند تر مقام کا حامل ہے اور جنت میں بھی اسے ان سے اعلیٰ تر مقام حاصل ہو گا۔