Book - حدیث 488

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى

ترجمہ Book - حدیث 488

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: مذکورہ صورت میں وضو نہ کرنے کی اجازت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے (بکری کے) شانے کا گوشت تناول فرمایا، پھر اپنے ہاتھ اس ٹاٹ سے صاف کر لیے جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔ 1۔اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالاباب والاحکم لازمی نہیں بلکہ افضل ہے،یا وضو کا حکم منسوخ ہے جیسے کہ امام شافعی ؒکا ارشاد ہے۔شیخ احمد شاکر نے بھی نسخ ہی کوترجیح دی ہے۔یا مذکورہ بالاباب میں وضو سے مراد ہاتھ منہ دھونا ہےجبکہ اس باب میں شرعی وضو مراد ہے جو لازمی نہیں۔ 2۔جس ٹاٹ اور دری سے آپ نے ہاتھ صاف کیے شاید وہ ٹاٹ اور وری ہی اس قسم کی ہوگی کہ اس سے ہاتھ دھونا بھی ضروری نہیں بلکہ صرف کپڑے اور تولیے وغیرہ سے صاف کرلینا بھی درست ہے۔اسی طرح ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرلینا کافی ہے۔