Book - حدیث 458

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ حسن - دون: " فقال ابن عباس:.... " فإنه منكر - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ الرُّبَيِّعِ قَالَتْ أَتَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْنِي حَدِيثَهَا الَّذِي ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا إِلَّا الْغَسْلَ وَلَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا الْمَسْحَ

ترجمہ Book - حدیث 458

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: دونوں پاؤں دھونے کابیان سیدنا ربیع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا، یعنی وہ حدیث جس میں انہوں نے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تو پاؤں دھوئے( جب سیدنا ربیع ؓ نے حدیث بیان کی تو) عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: لوگ پاؤں دھونے کا ذکر کرتے ہیں ، مجھے قرآن مجید میں صرف مسح کا ذکر ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: (فاغسلوا وجوهكم وايديكم الي المرافق وامسحوا برءوسكم وارجلكم الي الكعبين ) ( المائده:٦) اس میں متواتر روایت (ارجلكم) (لام مفتوح) ہے جس کا عطف (وجوهكم) پر ہے۔یعنی جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے منہ اور کہنیون تک ہاتھ دھوؤ اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ۔ لیکن ایک شاذ قراءت ( وارجلكم) (لام مكسور )ہےاس صورت میں اس کا عطف(برءوسکم) پر ہوگا اور معنی ہونگے اپنے سرون اور پیروں کا مسح کرو ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی باتاس شاذ قرات پر مبنی ہوسکتی تھی۔چونکہ یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے۔اسی لیے شیخ البانی ؒنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کو منکر قراردیا ہے۔صحیح بات متواتر قرات کے مطابق ہی اس آیت کا مفہوم ہے اور اس کی رو سے قرآن میں پیروں کے دھونے کا ہی ذکر ہے نہ کہ مسح کرنے کا