Book - حدیث 4319

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ صِفَةِ النَّارِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنْ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنْ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا

ترجمہ Book - حدیث 4319

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: جہنم کی کیفیات حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا یا رب! میرے ایک حصے نے دوسرے کو کھالیا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے دو سانس مقرر کردیئے ایک سانس سرد ی کے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں تمھیں جب سخت سردی محسوس ہوتی ہے تو یہ اس کی شدید سردی کی وجہ سے ہے اور تمھیں جب سخت گرمی محسوس ہوتی ہے تو یہ اس کی شدید گرمی کی وجہ سے ہے۔ ۱ اللہ تعالی کی تمام مخلوقات اپنے خالق کا شعور رکھتی ھے۔اس لیے اسکی عبادت کرتی ھے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتی ھے ۲ جنت اور جہنم بھی با شعور مخلوقات ھے قرآن مجید میں جہنم کے غصے کا ذکر دیکھیے سورۃ ملک:۶۷:۸ ۳ جہنم کی حرارت اتنی شدید ھَے کہ خود جہنم کے لیے بھی ناقابل برداشت ھے۔اس لیے اسے اجازت دی گئی ھے کہ سال میں دو بار گرم اور سرد ہوا خارج کرکے اس شدت میں قدرے تخفیف کر لے۔ ۴ کرہ ارض پر گرمی کے موسم میں سخت گرمی کی لہراور سردی کے ایام میں سخت سردی کی لہر ایک معروف اور محسوس حقیقت ھے۔اس کے کچھ ظاہری اسباب ھے جن سے سائنس دان واقف ہیں۔لیکن اسکے کچھ باطنی اور غیر مادی اسباب بھی ھے۔جن کا علم صرف نبیّ کے بتانے سے ھوا ھے۔ ۵ دنیا میں پیش آنے والے واقعات کے ظاہری اور سائنسی اسباب کے ساتھ کچھ روحانی اور باطنی اسباب بھی ھوتے ہیں جنکا اندازہ ظاہری اسباب سے نہیں ھو سکتا۔مثلا صدقہ کرنے سے مال میں اضافہ ھوتا ھے۔تجارت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے سے مال میں بے برکتی کا ھونا سلام کی وجہ سے محبت کا پیدا ھونا وغیرہ ان پہ ایمان رکھنا ضروری ھے۔