Book - حدیث 4309

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الشَّفَاعَةِ صحیح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَلَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمْ نَارٌ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَتْهُمْ إِمَاتَةً حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ لَهُمْ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَقِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِي الْبَادِيَةِ

ترجمہ Book - حدیث 4309

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: شفاعت کا بیان حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ جہنمی جو جہنم کے اصل مستحق (اور ہمیشہ اس میں رہنے والے ) ہیں۔وہ تو اس میں نہ مریں گے۔نہ جئیں گے۔لیکن کچھ لوگ جنھیں ان کے گناہوں یا غلطیوں کی وجہ سے جہنم پکڑ لےگی وہ انھیں ایک بار فوت کردے گی حتیٰ کہ جب وہ (جل کر ) کوئلہ ہوجائیں گے تو ان کے حق میں شفاعت کی اجازت مل جائے گی۔چنانچہ انھیں گروہ گروہ کرکے لایا جائے گا۔اور جنت کی نہروں (کے کناروں) پر بکھیر دیا جائے گا پھر کہا جائےگا۔جنت والو! ان پر پانی ڈالو۔(پانی ڈالنے سے) وہ اس طرح اگیں گے۔جس طرح سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں دانہ اگتا ہے۔ (یہ سن کر) حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا لگتا ہے رسول اللہﷺ صحرائی میدانوں میں رہتے رہے ہیں۔ ۱ گناہ گار مومن کچھ عرصہ سزا پانے کے بعد جہنم سے نکال دیے جائیگے۔ ۲ اس حدیث میں مذکورہ سزا پانےمومن ہیں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالے جائنیگے۔خواہ وہ مومنوں کی شفاعت سے نکالے جائیں یا اللہ کے خاص فضل سے کسی کی شفاعت کے بغیر نکالے جائے۔ ۳ جنت کا پانی جہنم کے اثرات کا خاتمہ کر دے گا۔اور نجات پانے والے جہنمی دوسرے جنتیوں کی طرح خوش و خرم اور ٹھیک ٹھاک ھو جائینگے۔ 4 سیلاب کا پانی جب زور میں ھوتا ھے تو اناج کے دانے یا جنگلی پودوں کے بیج بھی اسکے ساتھ آجاتے ہیں۔اور جب سیلاب کا پانی اترتا ھے تو اسکے ساتھ آئی ھوئی مٹی پیچھے رہ جاتی ھے۔اور اس میں وہ نمدار بیج اگ آتے ہیں۔ ۵ جب بعج اگتا ھے تو پودا مٹرا ھوا کمزوراور زرد ھوتا ھے۔اسی طرح جب وہ گناہگار جہنم سے نکلیں گے تو آگ کی وجہ سے جلے ھوئے اور کمزور ھوں گے۔پھر جنت کے پانی کی وجہ سے ٹھیک ھو جائیں گے۔ ۶ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ھونا چاہیے لیکن اللہ کے عذاب سے بے خوف بھی نہیں ھونا چاہیے۔