Book - حدیث 4303

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْحَوْضِ صحیح حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ الدِّمَشْقِيُّ نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَتَيْتُهُ عَلَى بَرِيدٍ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لَقَدْ شَقَقْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلَّامٍ فِي مَرْكَبِكَ قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ وَلَكِنْ حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ فَقُلْتُ حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى أَيْلَةَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ أَكَاوِيبُهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا وَأَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الدُّنْسُ ثِيَابًا وَالشُّعْثُ رُءُوسًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ وَلَا يُفْتَحُ لَهُمْ السُّدَدُ قَالَ فَبَكَى عُمَرُ حَتَّى اخْضَلَّتْ لِحْيَتُهُ ثُمَّ قَالَ لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ لَا جَرَمَ أَنِّي لَا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي عَلَى جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ وَلَا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ

ترجمہ Book - حدیث 4303

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: حوض کو ثر کا بیان حضرت ابو سلام حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے بُلایا ہے۔میں (جلد پہنچنے کی غرض سے) ڈاک کے گھوڑوں پرسوار ہوکر آیا۔جب میں حاضر خدمت ہوا تو انھوں نے (عمر بن عبد لعزیز ؒ) نے فرمایا:ابو سلام! ہماری وجہ سے آپ کو اس سواری کی مشقت اٹھانی پڑی۔میں نے کہا : جی ہاں۔امیر المومنین ! فرمایا:قسم ہے۔اللہ کی! میں آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا لیکن مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ رسول اللہﷺ کے آذاد کردہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حوض کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں۔میں نے چاہا کہ براہ راست آپ سے وہ حدیث سنوں۔ابو سلام ؒ نے کہا! مجھے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولیٰ رسولﷺ نے حدیث سنائی کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا میرا حوض عدن سے لے کر ایلہ تک ( کی مسافت جتنا طویل وعریض) ہے۔وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سےزیادہ میٹھا ہے اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی تعداد کی طرح (بے شمار) ہیں۔جو اس میں ایک بار پانی پی لےگا اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ حوض پرمیرے پاس سب سے پہلے وہ غریب مہاجر آیئں گے جن کے کپڑے میلے اور سر پراگندہ ہوں گے۔جو نازو نعمت میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے اور ان کےلئے دروازے نہیں کھولے جاتے حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ رو پڑے حتیٰ کہ ان کی ڈاڑھی مبارک(آنسوئوں سے) تر ہوگئی۔پھر فرمایا:لیکن میں نے تو نازونعمت والی عورتوں سے نکاح کیا ہے۔اور میرے لئے دروازے کھولے گئے اب ضرور ہوگا کہ میں پہنے ہوئے کپڑے نہیں دھووں گا جب تک میلے نہ ہوجایئں اور سر میں تیل نہیں ڈالوں گا جب تک بال نہ بکھر جایئں۔ ۱ غریب و گم نام مسلمان اگر نیک ھے تو اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ھے۔ ۲ اگر اللہ تعالی دولت دے تو زیب و زینت فخر و مباہات کے بجائے سادگی اختیار کرنا درجا ت کی بلندی کا باعث ھے۔ ۳ دروازے کھولے جانے کا مطلب یہ ھے کہ دنیا میں بلند مقام کی وجہ سے سب لوگ ان کا احترام کرتے ھے اور جس کے پاس جائیں وہ دروازہ کھول کر ان کا استقبال کرتا ھے۔۔ جبکہ غریب آدمی سے اس کے بر عکس سلوک ھوتا ھے۔ ۴ میلے پراگندہ با ل رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ مناسب صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھا جائے۔ بلکہ یہ مطلب ھے کہ زیب و زینت میں حد سے زیادہ انہماک نہ ھو۔ ۵ حضرت عمر بن عبدالعزیز رح خلیفہ ھونے کے باوجود علم حدیث کا اتنا شوق رکھتے تھے کہ جس عالم کے بارے میں انہیں معلوم ھوا کہ اسے کوئی حدیث یاد ھے تو اس سے استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھا۔ مسلمان حکمرانوں کو ایسا ہی ھونا چاہیے۔ ۶ علمائے کرام کا فرض ھے کہ دین سے محبت کرنے والے حکام کا احترام کریں۔ اور ان کے احکام کی تعمیل کی پوری کوشش کریں ۷ عمر بن عبدالعزیز رح نے یہ حکم نہیں بھیجا تھا کہ فورا پہنچیں لیکن ابو سلام رح نے اطاعت امیر میں مشقت اٹھا کر جلد از جلد پہنچنے کی کوشش کی۔