Book - حدیث 4301

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْحَوْضِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَبْيَضَ مِثْلَ اللَّبَنِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ Book - حدیث 4301

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: حوض کو ثر کا بیان حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔نبی کریمﷺ نےفرمایا :''میر ایک حوض ہے۔جو کعبہ اور بیت المقدس کے درمیان (ک مسافت کے برابر وسیع) ہے۔(اس کا پانی) دودھ کی طرح سفید ہے۔اس کے برتن ستاروں کی تعداد کی طرح (بے شمار ) ہیں۔اورقیامت کے دن میرے متعبین (امتی 9 سب نبیوں ؑ کے متبعین سے زیادہ ہوں گے۔'' 1۔حوض کوثر میدان حشر میں ایک حوض ھوگا۔ جس سے نبیّ اپنے امتیوں کو پانی پلا ئیں گے۔اس کی وسعت اس حدیث میں کعبہ سے بیت المقد س بیان کی گئی ھے۔دوسری حدیث میں یمن کے شہر عدن سے فلسطین کے شہر ایلہ{موجودہ بندرگاہ ایلات} تک کے برابر یا مدینہ منورہ سے سعودی عرب کے جنوب مشرق مین واقع عمان تک یا مدینہ منورہ سے یمن کے شہر صنعاء تک ذ کر کی گئی ھے۔{سنن ابن ماجہ حدیث ۴۳۰۳ تا ۔۴۳۰۴ اس سے اس کے طول و عرض کی تحدید مقصود نہیں ھے ۔بلکہ اس کی وسعت کا ایک سادہ سا تصور پیش کرنا مقصد ھے۔{۲}حوض کوثر میدان حشر میں ھوگا لیکن اس میں پانی جنت سے آئیگا۔۔نبیّ نے جنت میں نہر کوثر ملاحظہ فرمائی تھی۔{ صحیح بخاری التفسیر،باب، سورۃ {انا اعطینک الکوثر} حدیث؛۴۹۶۴