Book - حدیث 43

كِتَابُ السُّنَّةِ بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ صحیح حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ يَقُولُ وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا قَالَ قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ

ترجمہ Book - حدیث 43

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرنا حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں( ایسا) وعظ فرمایا، جس کے اثر سے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل( اللہ کی ناراضی اور عذاب سے) خوف زدہ ہو گئے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ایسا وعظ ہے جیسے کسی رخصت کرنے والے کی نصیحت ،تو آپ ہم سے کیا وعدہ لیتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا:‘‘میں تمہیں روشن (شریعت) پر چھوڑ رہا ہوں۔ جس کی رات بھی دن کی طرح( روشن) ہے، میرے بعد وہی شخص کج روی اختیار کرے گا جو ہلاک ہونے والا ہے۔ تم میں سے جو کوئی زندہ رہے گا، وہ جلد بہت اختلاف دیکھے گا، لہٰذا تمہیں میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا جو طریقہ معلوم ہو اسی کو اختیار کرنا۔ اسے ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا۔ اور( امیر کی) اطاعت کو لازم پکڑنا اگرچہ وہ حبشی غلام ہو کیوں کہ مومن تو نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جہاں لے جایا جائے، چلا جاتا ہے۔ ’’ (1) شرعی احکام سے روگردانی ہلاکت کا باعث ہے۔ (2) مومن شرعی احکام کی اتباع کرتا ہے، اگرچہ بظاہر مشکل ہوں۔ مومن کو اونٹ کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اپنے مالک کے حکم کے مطابق چلتا ہے، اگرچہ سفر مشکل ہی ہو۔ (3) اسلام نے غلامی کے سلسلے میں جو دور رس اصلاحات کیں اور جس طرح انہیں بہ تدریج تمام انسانی حقوق سے نوازا، ان ہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بنیاد پر اعلیٰ سے اعلیٰ منصب پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو یہی ہدایت ہے کہ وہ اس پر ناک بھوں نہ چڑھائیں، بلکہ اس کی اُس حیثیت کو تسلیم کریں جو اسے اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہو۔ (4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق قرون ثلاثہ کے بعد امت محمدیہ میں وسیع اختلاف ہوا، نئے نئے مذاہب اور گمراہ فرقوں نے جنم لیا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا امام اور پیشوا ٹھہرا لیا ہے کہ اختلاف کے وقت اس کی طرف رجوع کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو بھول گئے ہیں، حالانکہ آپ نے وصیت کی تھی کہ اختلاف کے وقت میری اور خلفائے راشدین کی سنت پر چلنا۔