Book - حدیث 4280

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْبَعْثِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ بْنِ الْعُتْوَارِيِّ أَحَدِ بَنِي لَيْثٍ قَالَ وَكَانَ فِي حَجْرِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ عَلَى حَسَكٍ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوجٌ بِهِ ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبَسٌ بِهِ وَمَنْكُوسٌ فِيهَا

ترجمہ Book - حدیث 4280

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: مرنے کے بعد زندہ ھونے (حشر ) کا بیان حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے -رسول اللہ ﷺ نے فر یا پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جا ئے گا ۔ اس پر کا نٹے ۔ہوں گے جیسے سعدان کے کانٹے پھر لوگ گزریں گے ۔ کچھ صحیح سلامت بچ نکلیں گے ۔پھر (نتیجہ یہ ہو گا کہ ) کو ئی نجات پا جا ئے گا کو ئی وہا ں روک لیا جا ئے گا۔اور کوئی سر کے بل اس میں جا گر ے گا۔ پل صراط خیریت کے ساتھ اور جلدی گزرنے کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہوگا۔جس قدر ایمان زیادہ ہوگا اتنا ہی تیزی سے گزریں گے اور جس قدر گناہ زیادہ ہوں گے اتنا پل صراط پر لگے ہوئے کانٹے زیادہ زخمی کریں گے۔ اور جن کے بارے میں انھیں حکم ہوگا۔ وہ کانٹے انھیں جہنم میں گھسیٹ لیں گے۔