Book - حدیث 4272

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى حسن حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ دَعُونِي أُصَلِّي

ترجمہ Book - حدیث 4272

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان حضرت جا بر ؓ سے روایت ہے ۔ نبیﷺ نے فر مایا جب میت قبر میں پہنچتی ہے ۔ تو اسے سورج ڈوبتا نظر آ تا ہے ۔وہ آ نکھیں ملتا ہو ا اٹھا بیٹھتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ مجھے چھوڑو نماز پڑ ھ لینے دو ۔ 1۔قبر میں سورج غروب ہونے کا منظر بھی ایک آزمائش ہے جس سے سچے مومن کی اور نام نہاد مسلمان کی پہچان ہوجاتی ہے۔2۔زندگی میں پابندی کے ساتھ نماز پڑھنا نہایت ضروری ہے ورنہ قبر کے امتحان میں کامیاب ہونا مشکل ہے۔3۔آنکھیں ملنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے۔کہ وہ غافل ہوکر سویا رہا جس کی وجہ سے عصر کی نماز میں دیر ہوگئی اس لئے وہ چاہتا ہے کہ فورا نماز پڑھ لے تاکہ مذید تاخیر نہ ہو۔