Book - حدیث 4269

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْقَبْرِ وَالْبِلَى صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

ترجمہ Book - حدیث 4269

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ۔ نبی ﷺ نے فر یا یہ آ یت عذاب قبر کے با رے میں نا زل ہو ئی ہے ۔ (آیت) ایمان والو ں کو اللہ تعالی پکی با ت کے سا تھ مضبوط رکھتا ہے ۔ اس سے کہا جا تا ہے تیرا رب کو ن ہے ۔ وہ کہتا ہے ۔ میرا رب اللہ ہے ۔ اور (دوسرے سوال کے جوا ب میں کہتا ہے ۔) میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں اسی لئے اللہ تعالی نے فر مایا (آیت) ایمان والوں کو اللہ تعالی پکی بات کے سا تھ مضبو ط رکھتا ہے ۔ دنیا کی زند گی میں بھی اور آ خر ت میں بھی ۔ 1۔پکی بات سے مراد کلمہ توحید ہے۔مومن اللہ کی توفیق سے دنیا کی زندگی میں اس پر قائم رہتا ہے جس کے نتیجے مین قبر میں وہ سوال جواب کے مرحلے میں ثابت قدم رہتا ہے۔ منافق دنیا کی زندگی میں اس پر قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔ اورہ وہ شکوک وشبہات میں مبتلا رہتا ہے۔ لہذا آخرت کی اس پہلی منزل (قبر) میں بھی وہ جواب نہیں دے سکتا۔2۔قبر میں عذاب نفاق اعتقادی سے کم تر گناہوں پر بھی ہوسکتا ہے۔جیسا کہ پیشاب سے جسم اور لباس کوبچانے کی کوشش نہ کرنا ایک کی بات دوسرے کو بتا کرلڑائی کرادینا وغیرہ۔