Book - حدیث 4265

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ صحیح حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

ترجمہ Book - حدیث 4265

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: موت کی یاد اور اس کے لیے تیاری حضرت انس ؓ سے روا یت ہے ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فر یا کو ئی آ دمی نا ز ل ہو نے والی مصیبت کی وجہ سے مو ت کی تمنا کر ے ۔ اگر وہ موت کی تمنا ضرور کر نا ہی چا ہے تو یو ں کہے (آیت) اے اللہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہو ۔ اور مجھے اس تک فوت کر نا جب میرے لئے وفات بہتر ہو۔ 1۔ زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔کیونکہ اس میں نیکیاں کرکے بندہ اللہ کو راضی کرسکتاہے اور جنت کے بلند درجات حاصل کرسکتا ہے۔2۔موت کی دعا زندگی کی نعمت کی ناشکری ہے۔3۔موت کی تمنا بے صبری کا اظہار بھی ہے۔اور اللہ کی رحمت سے مایوسی بھی اس لئے موت کی دعا کرنے کی بجائے مشکلات ٹل جانے کی دعا کرنا زیادہ بہتر ہے ۔4۔حدیث میں زکر کردہ دعا میں اللہ پر توکل اور اللہ کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرنے کا اظہار ہے۔5۔دنیا کی مشکلات وقتی ہیں۔ جبکہ اللہ کی ناراضگی آخرت کی ابدی نعمتوں سے محرومی کاباعث ہے۔