Book - حدیث 4246

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الذُّنُوبِ حسن حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ قَالَ التَّقْوَى وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَسُئِلَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ

ترجمہ Book - حدیث 4246

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: گناہوں کا بیان حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روا یت ہے انھو ں نے فر یا نبی ﷺ سے سوال کیا گیا ۔ کو ن سا عمل سب سے زیا دہ (لو گو ں کو )جنت میں داخل کر ے گا ۔آ پ نے فر یا ۔ تقوی اور خوش اخلاقی سوال کیا گیا ۔کون سی چیز سب سے زیا دہ (لو گو ں کو ) جہنم میں لے جا ئے گی ۔ فر یا دو کھو کھلی چیزیں ۔منہ اور شر م گا ہ۔ 1۔تقویٰ اللہ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے کا نام ہے۔اور خوش اخلاقی انسانوں پر ظلم وزیادتی کرنے سے اور بُرا سلوک کرن سے باز رکھتی ہے۔ اس طرح تقویٰ سے حقوق اللہ صحیح ادا ہوتے ہیں۔اور خوش اخلاقی سے حقوق العباد ان دونوں کی ادایئگی یقیناً جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔3۔منہ کے گناہوں میں حرام رزق کھانا بھی ہے۔ جس کی وجہ سے نیکیاں قبول نہیں ہوتیں۔ اور زبان کے گناہ بھی مثلا جھوٹ غیبت گالی گلوچ وغیرہ۔ جن سے لوگوں میں فساد پیدا ہوتا اور بڑھتا ہے۔یہ دونو ں قسم کے گناہ بڑے گناہ ہیں۔4۔شرم کا گناہ زنا ہے۔جوکبیرہ گناہ ہے۔اور معاشرے میں بے شمارخرابیاں پیدا کرنے کاباعث ہے۔زبان کے گناہ(غیر محرم سے ناجائز بات چیت وغیرہ) آنکھ کے گناہ(نا محرم کو دیکھنا)ہاتھ کے گناہ(نا محرم کو چھونا یا خط وغیرہ لکھنا او ر فون کرنا)پائوں کے گناہ (بدکاری کے لئے چل کے جانا) وغیرہ سب اسی بڑے گناہ کے لئے کئے جاتے ہیں۔جن کی وجہ سے انسان جہنم میں پہنچ جاتاہے۔4۔منہ اور شرم گاہ کے گناہوں سے بچنے والے کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسرے گناہوں سے بھی بچ جائےگا۔اور جنت میں چلاجائےگا۔