Book - حدیث 4244

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ ذِكْرِ الذُّنُوبِ حسن حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُهُ فَإِنْ زَادَ زَادَتْ فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

ترجمہ Book - حدیث 4244

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: گناہوں کا بیان حضرت ابو ہریرہؓ سے روا یت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا ۔جب مو منکو ئی گنا ہ کر تا ہے تو اس کے دل پر ایک سیا ہ نقطہ لگ جا تا ہے ۔اگر وہ تو بہ کر لے با ز آ جا ئے اور (اللہ سے ) بخشش کی درخوا ست کرے تو اس کا دل صا ف ہو جا تا ہے ۔ اگر مزیدگنا ہ کر ے تو سیاہی کا نقطہ زیا دہ ہو جا تا ہے ۔ (حتیکہ ہو تے ہو تے دل بالکل سیا ہ ہو جا تا ہے ۔)یہی وہ زنگ ہے ۔ جس کا ذ کر اللہ تعا لی نے اپنی کتا ب میں (اس فر ن میں ) کیا ہے كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ یو ں نہیں بلکہ ان کے دلو ں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے ۔ 1۔گناہ ہوجائے تو جلد سے جلد توبہ کرنی چاہیے۔2۔گناہوں کی وجہ سے دل سیاہ ہونے کا یہ نقصان ہوتا ہے۔کہ نیکی سے محبت او ر گناہ سے نفرت ختم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔3۔روحانی بیماریوں کا علاج اللہ کی یاد قرآن کی تلاوت توبہ واستغفار اور موت کی یاد ہے۔