Book - حدیث 4236

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الْأَمَلِ وَالْأَجَلِ حسن صحیح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ

ترجمہ Book - حدیث 4236

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: امیدوار اور اجل حضرت ابو ہر یر ہ ؓ سے روا یت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فر یا میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سا ل کے درمیا ن ہوں گی اس سے آگے بڑھنے والے کم ہو ں گے 1۔ گزشتہ امتوں میں لوگوں کی عمریں بہت لمبی ہوتے تھیں ان کے مقابلے میں اس امت کے افراد کی عمریں بہت مختصر ہیں اس لیے ہمیں اس مختصر مہلت میں نیکی کا کام کرنے کی کوشش زیادہ کرنی چاہیے۔ 2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔:اللہ تعالی نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا جس کی موت کو اتنا مؤخر کردیا کہ وہ ساٹھ سال پہنچ گیا۔ (صحيح البخاري الرقاق باب : من بلغ ستين سنة فقد اعذر الله في العمر۔۔۔۔۔۔ حديث:٦٤١٩) 3۔ جب انسان ساٹھ سال کے قریب پہنچ جائے تو اسے آخرت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے شاید ساٹھ سال سے آگے نہ بڑھ سکے۔اور ساٹھ سال کے بعد تو یوں سمجھے کہ مجھے رعایتی مدت مل رہی ہے ۔اس کے بعد غفلت اور فسق وفجور نہایت خطرناک ہے۔ستر سال کے بعد تو ہر دن کو ایک نئی رعایت تصور کرنا چاہیے۔