Book - حدیث 423

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوُضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ كُرَيْبًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنَّةٍ وُضُوءًا يُقَلِّلُهُ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ

ترجمہ Book - حدیث 423

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: وضو میں میانہ روی اختیار کرنےاور زیادتی کےمکروہ ہونے کابیان سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رات کو اپنی خالہ( ام المؤمنین ) سیدہ میمونہ ؓ کے ہاں ٹھہرا۔( رات کو ) نبی ﷺ اٹھے، آپ نے ایک مشک سے وضو کیا اور وضو بھی مختصر کیا( کم پانی استعمال کیا) میں اٹھا اور میں نے بھی ویسے ہی کای جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا 1)یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں اس کے بعد نبیﷺ کی نماز تہجد کا ذکر ہےجس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی بطور مقتدی شریک تھے۔ 2۔نفلی عبادت میں بھی بچوں کو شریک کرنا چاہیےتاکہ انھیں اس کی عادت ہوجائے۔ 3۔وضو میں ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنا درست نہیں ہے بلکہ تھوڑے پانی کے ساتھ ہلکا وضو کرلینا بھی کافی ہے۔ 4۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہر کام میں نبی ﷺ کے طریقے پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے خواہ وہ کام واجب ہو یا مستحب۔