Book - حدیث 4224

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الثَّنَاءِ الْحَسَنِ حسن صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ قَالَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي ثُبَيْتٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَلَأَ اللَّهَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَهُوَ يَسْمَعُ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَهُوَ يَسْمَعُ

ترجمہ Book - حدیث 4224

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: اچھی رائے عامہ حضرت عبداللہ بن عبا س ؓ سے روایت ہے رسو ل اللہ نے فر یا ۔جنتی آ دمی وہ ہے جس کے کا نو ں کو اللہ لو گو کی اچھی را ئے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے ۔ ( کہ لوگ میری تعریف کر رہے ہیں ) اور جہنمی وہ ہے جس کے کا نو ں کو اللہ کی بری رائے سے بھر دیتا ہے اور وہ سن رہا ہو تا ہے ۔ (کہ لو گ مجھے اچھا نہیں سمجھتے 1۔نیک آدمی کی عدم موجودگی میں بھی اسی کی تعریف کی جا تی ہے اور یہ باتیں اس کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔ 2۔جب کسی کو معلوم ہو کہ لوگ اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں تو اسے چاہیے کہاللہ کا شکر ادا کرے اور نیکی کے راستے پر قائم رہنے کی اور زیادہ کوشش کرے اور اللہ سے استقامت کی دعا کرے۔ 3۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ لوگ اس کے بارے میں برمی رائے رکھتے ہیں تواسے چاہیے کہ توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرے تاکہ اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں اور آئندہ نیکی کی توفیق ملے۔ 4۔سامنے کی تعریف کا اعتبار نہیں کیونکہ لوگ خوشامد کے طور پر بھی تعریف کرتے ہیں