Book - حدیث 422

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَصْدِ فِي الْوُضُوءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّعَدِّي فِيهِ حسن صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ و تَعَدَّى أَوْ ظَلَمَ

ترجمہ Book - حدیث 422

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: وضو میں میانہ روی اختیار کرنےاور زیادتی کےمکروہ ہونے کابیان سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے وضو کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اسے تین تین بار (اعضاء دھو کر) وضو کر کے دکھایا، پھر فرمایا:’’ وضو یہ ہوتا ہے، جس نے اس پر اضافہ کیا، اس نے برا کیا، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا 1۔تعلیم کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ کام کرکے دکھایا جائے۔اساتذہ کو چاہیے کہ عملی مسائل کی تفہیم میں اس طریقے سے فائدہ اٹھائیں۔ 2۔( هذا الوضوء) یہ ہوتا ہےوضو اس کا مطلب یہ ہے کہ وضو کا صحیح طریقہ یہ ہے۔ 3۔ اضافہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ تین بار سے زیادہ کسی عضو کو دھوئے۔ 4۔ اضافے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پانی کے استعمال میں فضول خرچی کرے لہذا اس سے بھی بچنا چاہیے۔