Book - حدیث 4208

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الْحَسَدِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ ابْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا

ترجمہ Book - حدیث 4208

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: حسد کا بیان حضرت عبداللہ بن مسعود سے روا یت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا حسد (رشک ) صرف دو ہی کا مو ں میں جا ئز ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے ل دیا اور اسے حق کی راہ میں خر چ کر نے پر لگا د یا ۔(اس سے رشک کرنا چا ہیے) اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے ( دین کی ) کر نے سمجھ دی وہ اس کے مطا بق فیصلے کر تا ہے ۔اوراس کی تعلیم دیتا ہے 1۔حسد کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کسی کو اللہ کی طرف سے نعمت ملی ہو تو اسے دیکھ کر یہ خواہش پیدا ہوکہ اس کی یہ نعمت ختم ہوجائے۔یہ جذبہ رکھنا بہت بڑا گناہ ہے۔اس حدیث میں حسد سے مراد رشک ہے یعنی یہ خواہش کرنا کہ جیسی نعمت اس کے پاس ہے ویسے مجھے بھی مل جائے یہ جائز ہے۔ 2۔حسد تو کسی پر بھی جائز نہیں۔رشک بھی دنیا کی دولت شہرت اور حکومت پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ کسی کا نیک عمل ہی اس قابل ہے کہ اس طرح کا عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ 3۔ خوبیوں میں سب سے زیادہ قابل رشک دو خوبیاں ہیں:سخاوت اور علم ۔یہ عمل بھی تب خوبیوں میں شمار ہوسکتے ہیں جب اللہ کی رضا کے لیے خلوص کے ساتھ انجام دیے جائیں ورنہ شہرت کے لیے حاصل کیا جانے والا علم اور خرچ کیا جانے والا مال سخت ترین سزا اور شدید عذاب کا باعث ہوگا۔اللہ محفوظ رکھے