Book - حدیث 4201

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ

ترجمہ Book - حدیث 4201

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: عمل کو(غیر مقبول ہونے سے) محفوظ کرنا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘اعتدال اختیار کرو اور سیدھے رہو۔ تم مین سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات نہین دے گا’’۔ حاضرین نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ‘‘مجھے بھی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت اور اپنے فضل میں چھپا لے’’۔ 1۔اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ افراط وتفریط سے اجتناب ہے یعنی نہ تو بدعت کا ارتکاب کیا جائے اور نہ ہی فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کی جائے۔ 2۔جنت اصل میں اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ اللہ کی خاص رحمت ہے کیونکہ بندے کے نیک اعمال اللہ کے احسانات کے مقابلےمیں انتہائی حقیر ہیں بلکہ ان اعمال کی توفیق بھی اللہ کا احسان ہے۔ 3۔(سدودا) کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اصل مقصود کو پیش نظر رکھو(سداد السهم) کا مطلب ہوتا ہے تیر کا نشانے پر لگنا۔ یہ لفظ اسی سے ماخوذ ہے۔اصل مقصود اللہ کی رضا کا حصؤل اور جہنم سے نجات ہے۔ 4۔ نیک اعمال کا مقصد اللہ کی رحمت کا حصؤل ہے۔اس کے نتیجے میں جنت بھی مل جائے گی اور جہنم سے بچاؤ بھی ہوجائے گا۔