Book - حدیث 4195

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الحُزنِ وَالبُکَاءِ حسن حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى ثُمَّ قَالَ يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا

ترجمہ Book - حدیث 4195

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: غم اور رونا حضرت براء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور اتنا روئے کہ مٹی تر ہو گئی۔ پھر فرمایا: ‘‘بھائیو! ایسی چیز (قبر) کے لئے تیاری کر لو 1۔ قبر آخرت کا پہلا مرحلہ ہے اس کے لیے تیاری موت سے پہلے ہی ہوسکتی ہے لہذا زندگی کے جو چند دن میسر ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ 2۔موت اور قبر کے مراحل یاد کرکے رونا اللہ کے خوف سے رونے میں شامل ہے کیونکہ وہاں اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کو سزا ملے گی۔ 3۔مناسب موقع پر وعظ و نصیحت کے چند جملے کہنے میں حرج نہیں لیکن اس طرح کا رواج نہ بنا لیا جائے کہ لازمی جز سمجھ لیا جائے۔ جس طرح بعض حضرات جنازہ پڑھانے سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا عملاً ضروری سمجھ بیٹھے ہیں اگرچہ وہ اسے زبان سے ضروری نہ کہیں۔