Book - حدیث 4194

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الحُزنِ وَالبُکَاءِ صحیح حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِسُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ

ترجمہ Book - حدیث 4194

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: غم اور رونا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ‘‘مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ’’۔ میں نے سورہ نساء کی تلاوت کی جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا) ‘‘اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے اور آپ کو اس اُمت پر گواہ بنا کر لے آئیں گے’’۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں) میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ 1۔ جس طرح قرآن کی تلاوت بری نیکی ہے اس طرح قرآن سننا بھی ضروری ہے۔ 2۔قرآن کی تلاوت کا دل پر ایک خاص روحانی اثر ہوتا ہے۔ 3۔قرآن کا ترجمہ سیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے تاکہ تلاوت کا دل پر صحیح اثر ہوسکے۔ 4۔ قرآن مجید کی تلاوت یا سننے کا اصل مقصد اس کے مطابق اپنی زندگی بنانے کی کوشش ہے۔ 5۔حدیث میں مذور آیت میں قیامت کا ایک منظر پیش کی گیا ہے۔اور قیامت خود ایک عبرت انگیز موضوع ہے۔ضروری ہے کہ وعظ و نصیحت میں اس موضوع کو اہمیت دی جائے۔