Book - حدیث 4164

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ التَّوَكُّلِ وَالْيَقِينِ صحیح حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا

ترجمہ Book - حدیث 4164

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: توکل اور یقین حضرت عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فر رہے تھے: ‘‘اگر تم لوگ اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے۔ وہ صبح (گھونسلوں سے) بھوکے روانہ ہوتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر آتے ہیں’’ 1۔ پرندوں کا توکل یہ ہے کہ وہ رزق جمع کرکے نہیں رکھتے بلکہ انھیں یقین ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے ہمیں آج رزق دیا ہے اسی طرح کل بھی دے گا۔ 2۔انسان عام طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں فقر فاقہ سے ڈرتا ہے۔اسے یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ نے اسے اب رزق دیا ہے اسی طرح کل بھی دے گا۔ 3۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ جائز اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔پرندے بھی گھونسلے چھوڑ کر نکلتے ہیں اور تلاش کرکے رزق کھاتے ہیں۔اسی طرح انسان کو حرص سے بچتے ہوئے جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنا چاہیے۔