Book - حدیث 4141

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الْقَنَاعَةِ حسن حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا

ترجمہ Book - حدیث 4141

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: قناعت کابیان حضرت عبداللہ بن محصن انصاری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘ جس کی صبح اس حال میں ہوئی کہ اسے بدن میں عافیت ، اپنے بارے میں امن اور دن بھر کی خوراک حاصل ہو، اسے گویا پوری دنیاجمع کرکے دے دی گئی ’’۔ 1۔ جسے کوئی بیماری اور خوف نہ ہو اور دن بھر کی ضرورت کا سامان موجود ہو تو یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ 2۔ہم زیادہ کی خواہش میں ان نعمتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے جو ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دل میں شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ 3۔جس شخص کےپاس ایک دن کی ضروریات موجود ہیںاسے اس دن کا شکر ادا کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ جب کل کا دن آئے گا تو اللہ تعالی اس کی ضروریات بھی مہیا فرما دے گا۔