Book - حدیث 4116

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ

ترجمہ Book - حدیث 4116

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: جس شخص کو اہمیت نہیں دی جاتی حضرت حارثہ بن وہب خزاعی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘ کیامیں تمہیں جنت والے نہ بتاؤں؟ہرضعیف آدمی، کمزور سمجھاجانے والا(جنتی ہے۔)کیامیں تمہیں جہنم والے نہ بتاؤں؟ہردرشت خو، زرپرست ، متکبر (جہنی ہے’’۔) 1۔ کمزور سمجھنے والا سے مراد شریف النفس آدمی ہےجو کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اسے معاف کردیتا ہے۔لوگ اسے کمزور سمجھتے ہیںاس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے اور نی اس کے شر وغیرہ ہی کا کوئی خوف ہوتا ہے۔ 2۔افرادی معاملات میں نرمی اور درگزر کا چلن عام ہوجائے تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جاتا ہے۔فساد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنی مالی جسمانی یا خاندانی اور افرادی طاقت پر گھمنڈ کرکے دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔اگر وہ کسی پر زیادتی نہ کرےخواہ اسے کمزور سمجھا جائے تو یہ اعلی اخلاق کا نمونہ ہے۔جس کا ثوابگ جنت ہے۔ 3۔درشت خو سے مراد بات چیت کے انداز میں اور برتاؤ میں سختی اختیار کرنے والا ہے۔اس قسم کے بد اخلاق آدمی سے ہر کسی کا جھگڑا ہوتا ہے جس سے فساد جنم لیتا اور بڑھتا ہے۔ 4۔جواظ كا مطلب الجموع المنوع بیان کیا گیا ہے یعنی ایسا حریص آدمی جو مال جمع کرتا رہتا ہے لیکن بخیل بھی ہے خرچ نہیں کرتا۔مومن میں حرص اور بخل کی عادت نہیں ہوتیں۔ بلکہ یہ منافقوں اور کافروں میں ہوتی ہیں۔جن کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ 5۔ تکبر سے مراد دوسرے کو حقیر سمجھنا اور حق واضح ہوجانے کے باوجود تسلیم نہ کرنا۔یہ برتری کا احساس بہت سی اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کا باعث ہے۔