Book - حدیث 4112

كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ مَثَلُ الدُّنْيَا حسن حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرَ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا

ترجمہ Book - حدیث 4112

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل باب: دنیا کی مثا ل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرمارہے تھے :‘‘ دنیاملعون ہے۔ اسمیں جو کچھ ہے ، سب ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے اور اس سے تعلق رکھنے والی اشیاء کے اور سوائے عالم اور طالب علم کے’’۔ 1۔ لعنت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہےیعنی دنیا چونکہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہےاس لیے یہ لعنت کا باعث ہے۔ 2۔ ہر وہ چیز یا عمل جس کا اللہ کی یاد سے کسی نھی انداز سے کوئی تعلق ہو اس پر یا اس کی وجہ سے رحمت نازل ہوتی ہےچنانچہ تلاوت نماز اللہ کے لیے جانور کی قربانی اور حج وعمرہ کے اعمال سب رحمت کا باعث ہیں۔ایسے اعمال انجام دینے والا اللہ کی لعنت سے محفوظ رہتا ہے،اسی طرح کعبہصفا ومروہ منی عرفات مزدلفہ اور ہر مسجد ومدرسہ اللہ کی رحمت کے مقامات ہیں۔یہاں دین کی خدمات انجام دینا اور دین کے خادموں کی ضروریات مہیا کرنادینی کتابیں چھاپنا اور دوسروں تک پہنچاناان کی تعلیم دینا اور تعلیم حاصل کرناعلماء و طلباء کی ضروریات پوری کرنے کی نیت سے حلال روزی کمانایہ سب اللہ کی رحمت کے اسباب ہیں۔ 3۔دین کے علم سے کسی بھی انداز سے منسلک ہونا اللہ کی رحمت کا باعث ہےاس لیے اگر دنیوی علوم و فنون بھی خدمت دین کی نیت سے حاصل کی جائیں تو وہ بھی دین کت خادم علوم ہونے کی وجہ سے لعنت کے دائرے سے خارج ہو جائیں گے۔اگر نیت نہ ہو تو یہ علوم رحمت کا باعث نہیں ہوں گے۔ 4۔حلال روزی کمانا اللہ کا حکم ہےاس لیے اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے حلال روزی کمانا اور حلال کاموں میں خرچ کرنا ثواب کا کام ہے۔