Book - حدیث 4056

كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ الْآيَاتِ حسن صحیح حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانَ وَدَابَّةَ الْأَرْضِ وَالدَّجَّالَ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ وَأَمْرَ الْعَامَّةِ

ترجمہ Book - حدیث 4056

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل باب: قیامت کی بڑی نشانیاں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے عمل کر لو: سورض کا مغرب سے طلوع ہونا، دھواں، دابۃ الارض، دجال، آدمی کا ذاتی مسئلہ (موت) اور عام لوگوں کا معاملہ (عمومی فتنہ۔ ) 1۔مغرب سے سورج طلوع ہونے پر توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔اس لیے اس سے پہلے پہلے خلوص دل سے توبہ کرکے نجات کا بندوبست کرلینا ضروری ہے۔ 2۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ دھوئیں کی پیشگوئی پوری ہوچکی ہے۔جب رسول اللہﷺ نے قریش کے کفر اور ظلم کی وجہ سے ان کےخلاف بددعا کی تو ان پر قحط مسلط ہوا حتی کہ بھوک کی وجہ انھیں فضا صاف ہونے کے باوجود دھواں ہی دھواں محسوس ہوتے تھی۔(صحيح البخاري’التفسير’سوره حم الدخان’باب ( يغشي الناس هذا عذاب اليم) حديث:٤٨٦١) لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ انصار میں سے ہیں،نبی ﷺ کی ہجرت کے بعد انھوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت کرنا شروع کی جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کردہ واقعہ مکی دور کا ہے۔ 3۔زندگی میں نیک اعمال کمائے جاسکتے ہیں'موت کے بعد یہ موقع ختم ہوجاتا ہے'اس لیےاس موقع ختم ہوجاتا ہے،اس لیے اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ 4۔بہت سے فتنے ایسے ہیں جن میں انسان گمراہ ہوسکتا ہے'اس سے پہلے نیکیاں کرنے سے امید کی جاسکتی ہے کہ فتنے کے دوران میں اللہ کی طرف رہنمائی اور توفیق حاصل ہوجائے۔