Book - حدیث 4055

كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ الْآيَاتِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ الْكِنَانِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّةُ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنِ أَبْيَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا

ترجمہ Book - حدیث 4055

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل باب: قیامت کی بڑی نشانیاں حضرت ابو سریحہ (حذیفہ بن اسید غفاری) ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے بالا خانے سے جھانکا اور فرمایا: قیامت نہیں آئے گی جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال ، دھواں، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ظہور (نزول)، اور زمین میں دھنس جانے کے تین واقعات: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں۔ اور (یمن کے شہر) عدن ابین کی گہرائی سے ایک آگ کا ظہور جو لوگوں کو ہانک کر حشر کے میدان میں لے آئے گی۔ جب وہ رات کو ٹھہریں گے تو وہ (آگ) بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی۔ جب وہ دوپہر کو (آرام کے لیے) قیلولہ کریں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی۔ 1۔دابة الارض کی احادیث باب :31میں'مغرب سے سورج طلوع ہونے کی احادیث'باب:32میں'دجال کے ظہور'حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول اور یاجوج ماجوج کے بارے میں احادیث'باب:33 میں آرہی ہیں۔ 2۔سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا نظام ختم ہورہا ہے۔اب قیامت کے مراحل شروع ہیں جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے،اس لیے اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوگی'جیسے موت کے وقت فرشتے نظر آجانے سے توبہ قبول نہیں ہوتی۔ 3۔دجال کا فتنہ بہت عظیم فتنہ ہے۔وہ یہودکا لیڈر کا ہوگا اور مسلمانوں کی گمراہی کا باعث ہوگا۔ 4۔یہودیوں نے سچے مسیح (عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) کا انکار کیا کیونکہ انھوں نے دنیا میں یہود کے غلبے کا وعدہ نہیں فرمایا۔دجال کے ایام میں یہود کو وقتی طور پر ترقی اور غلبہ حاصل ہوگا۔ 5۔بعض مسلمان کہلانے والے فرقے بھی امام غائب کے ظہور کے منتظر ہیں۔ممکن ہے دجال کے شعبدے دیکھ کر وہ بھی اسے اپنا امام تسلیم کرلیں۔