Book - حدیث 3996

كِتَابُ الْفِتَنِ بَابُ فِتْنَةِ الْمَالِ صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ وَالرُّومِ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟» ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ تَتَنَافَسُونَ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ»

ترجمہ Book - حدیث 3996

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل باب: مال کا فتنہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم فارس اور روم (کی سلطنتوں) کے خزانے فتح کر لو گے تو تمہاری کیا حالت ہو گی؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے فرمایا: ہم وہی کچھ (شکر کے کلمات) کہیں گے (اور شکر والے عمل کریں گے) جن کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا دوسری بات ہو گی۔ تم ایک دوسرے پر رشک کرو گے، پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ پھیرو گے، پھر ایک دوسرے سے ناراض رہنے لگو گے۔ یا اس طرح کا کوئی اور لفظ فرمایا۔ پھر تم غریب مہاجرین میں جاؤ گے اور انہیں ایک دوسرے کی گردنوں پر لادو گے۔ 1۔ رشک لینے سے یہاں دنیا مے مال کی طرف مسابقت مراد ہے۔کسی نعمت کے بارے میں یہ خواہش ہے کہ وہ مجھے ملےدوسرے کو نہ ملے ناجائز رشک ہے۔اس قسم کا رشک حسد تک لےجاتا ہے جو ناپسندیدہ ہے۔جائز رشک کا مطلب یہ خواہش ہے کہ جیسی نعمت کسی مو ملی ہے ویسی مجھے بھی ملے۔یہ رشک جائز ہے 2۔ حسد کے نتیجے میں تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں اور دشمنی تک نوبت جا پہنچتی ہے۔یہ سب عادتیں مذموم ہیں۔ 3۔آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ دولت مند افراد تنگ دستی پر سختی کرینگے اور رعب جمائیں گے۔یہ صفات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں نہیں تھیں۔بعد والوں میں ایسے افراد ظاہر ہوئے جن میں ایسی خصلتیں موجود تھیں۔